اردو ادب کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: نظم (شاعری) اور نثر۔ ہر حصے میں کئی اصناف ہیں جن کی اپنی ہیئت اور موضوعات ہیں۔
شعری اصناف
غزل: ہم قافیہ و ہم ردیف اشعار کا مجموعہ جس کا ہر شعر عموماً اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے؛ پہلا شعر مطلع اور آخری (جس میں تخلص ہو) مقطع کہلاتا ہے؛ موضوع عموماً عشق اور زندگی کے تجربات۔
نظم: کسی ایک موضوع پر مسلسل کلام؛ اس کی شکلیں پابند نظم، نظمِ معریٰ (قافیے کے بغیر) اور آزاد نظم (مصرعوں کی لمبائی آزاد) ہیں؛ نظیر اکبر آبادی عوامی نظم کے بڑے شاعر ہیں۔
قصیدہ: کسی کی تعریف میں طویل نظم؛ سودا اور ذوق بڑے قصیدہ گو ہیں۔
مثنوی: طویل قصہ یا داستان جس کے ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں؛ میر حسن کی 'سحر البیان' اور دیا شنکر نسیم کی 'گلزارِ نسیم' مشہور ہیں۔
مرثیہ: کسی کی وفات پر غم کا اظہار، خصوصاً واقعۂ کربلا پر؛ میر انیس اور مرزا دبیر اس صنف کے امام ہیں۔
رباعی: چار مصرعوں کی مخصوص اوزان والی نظم؛ پہلا، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ؛ امجد حیدرآبادی معروف رباعی گو ہیں۔
قطعہ: دو یا زیادہ اشعار جو ایک ہی خیال کو مکمل کریں۔
مسدس: چھ مصرعوں کے بندوں والی نظم؛ 'مسدسِ حالی' اس کی مشہور مثال ہے۔
حمد و نعت: اللہ تعالیٰ کی تعریف (حمد) اور رسولِ اکرم ﷺ کی مدح (نعت)۔
نثری اصناف
داستان: طویل، خیالی اور مافوق الفطرت واقعات سے بھرپور قصہ؛ 'باغ و بہار' (میر امن)، 'فسانۂ عجائب' (رجب علی بیگ سرور)، 'داستانِ امیر حمزہ'۔
ناول: حقیقی زندگی پر مبنی طویل قصہ؛ ڈپٹی نذیر احمد کا 'مراۃ العروس' (1869ء) ابتدائی ناول ہے؛ مرزا ہادی رسوا کا 'امراؤ جان ادا'، پریم چند کا 'گئودان'، قرۃ العین حیدر کا 'آگ کا دریا' اور عبداللہ حسین کا 'اداس نسلیں' اہم ناول ہیں۔
افسانہ: مختصر کہانی جو کسی ایک واقعے یا تاثر پر مرکوز ہو؛ پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین۔
ڈراما: اسٹیج یا نشریات کے لیے مکالموں میں لکھی گئی کہانی؛ امانت لکھنوی کی 'اندر سبھا' اور آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے۔
خاکہ: کسی شخصیت کا مختصر، جیتا جاگتا قلمی تصویر؛ مولوی عبدالحق کی 'چند ہم عصر'۔
انشائیہ: کسی موضوع پر ہلکا پھلکا، ذاتی اور شگفتہ مضمون۔
سفرنامہ: سفر کے مشاہدات؛ یوسف خان کمبل پوش کا 'عجائباتِ فرنگ' ابتدائی سفرنامہ ہے؛ ابنِ انشا اور مستنصر حسین تارڑ مقبول سفرنامہ نگار ہیں۔
آپ بیتی و سوانح: قدرت اللہ شہاب کا 'شہاب نامہ'، جوش ملیح آبادی کی 'یادوں کی بارات'، حالی کی 'حیاتِ جاوید' (سوانحِ سرسید)۔
طنز و مزاح: پطرس بخاری، شفیق الرحمٰن، ابنِ انشا، مشتاق احمد یوسفی۔
مکتوب نگاری: غالب کے خطوط نے اردو نثر کو سادگی اور بے تکلفی عطا کی۔
تنقید: حالی کا 'مقدمۂ شعر و شاعری' اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ کتاب مانی جاتی ہے۔