Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
کلمہ اس لفظ کو کہتے ہیں جو بامعنی ہو۔ اردو قواعد میں کلمے کی تین بنیادی قسمیں ہیں: اسم، فعل اور حرف۔ جدید قواعد نویس انھی کو تفصیل سے آٹھ اجزائے کلام میں تقسیم کرتے ہیں۔
زبان الفاظ سے بنتی ہے۔ جو لفظ کوئی معنی رکھتا ہو اسے 'کلمہ' یا 'موضوع' کہتے ہیں، اور جو لفظ بے معنی ہو اسے 'مہمل' کہتے ہیں۔ صرف (علمِ صرف) الفاظ کی ساخت اور ان کی قسموں سے بحث کرتا ہے، جبکہ نحو (علمِ نحو) الفاظ کو جوڑ کر جملہ بنانے کے اصول بتاتا ہے۔
وہ کلمہ جو کسی شخص، جگہ، چیز، کیفیت یا خیال کا نام ہو۔ جیسے: احمد، لاہور، کتاب، خوشی۔
وہ کلمہ جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا تین زمانوں (ماضی، حال، مستقبل) میں سے کسی ایک زمانے کے ساتھ پایا جائے۔ جیسے: آیا، کھاتا ہے، جائے گا۔
وہ کلمہ جو اکیلا پورے معنی نہ دے بلکہ دوسرے کلمات سے مل کر معنی دے اور انھیں آپس میں جوڑے۔
انگریزی قواعد کے اثر سے بعض قواعد نویسوں نے کلمے کو مزید حصوں میں بانٹا ہے، جنھیں 'اجزائے کلام' کہا جاتا ہے:
اسم چیزوں کے نام بتاتا ہے، فعل کام اور زمانہ ظاہر کرتا ہے، اور حرف ان دونوں کو جوڑ کر بامعنی جملہ بناتا ہے۔ کلمے کی قسموں کی پہچان درست اردو لکھنے اور بولنے کی بنیاد ہے۔