جملہ کلمات کا وہ مجموعہ ہے جس سے سننے والے کو پورا مطلب سمجھ آ جائے۔ ہر جملے کے دو بنیادی حصے ہوتے ہیں: مسند الیہ (جس کے بارے میں بات کی جائے) اور مسند (جو بات کی جائے)۔
جملے کے اجزا
مسند الیہ: جس کے بارے میں خبر دی جائے (مبتدا یا فاعل)۔
مسند: جو خبر دی جائے (خبر یا فعل)۔
مثال: 'اقبال بڑے شاعر تھے' میں 'اقبال' مسند الیہ اور 'بڑے شاعر تھے' مسند ہے۔
جملہ اسمیہ اور فعلیہ
جملہ اسمیہ: جس میں فعلِ ناقص کے ساتھ مبتدا اور خبر ہوں — موسم خوش گوار ہے۔ (مبتدا: موسم، خبر: خوش گوار، فعلِ ناقص: ہے)
جملہ فعلیہ: جس میں فاعل کوئی کام کرے — بچے کھیل رہے ہیں۔ / احمد نے کتاب پڑھی۔
اردو جملے کی ترتیب
عموماً فاعل پہلے، پھر مفعول اور آخر میں فعل: علی نے سیب کھایا۔
صفت موصوف سے پہلے آتی ہے: سرخ پھول، ذہین طالب علم۔
متعلقِ فعل عموماً فعل سے پہلے آتا ہے: وہ آہستہ چلتا ہے۔
شعر اور زورِ بیان کے لیے ترتیب بدلی جا سکتی ہے۔
ساخت کے لحاظ سے جملے کی اقسام
مفرد جملہ: ایک ہی خبر یا فعل والا جملہ — بارش ہو رہی ہے۔
مرکب جملہ: دو یا زیادہ آزاد جملے جو حرفِ عطف سے جڑے ہوں — وہ آیا اور چلا گیا۔
مختلط (پیچیدہ) جملہ: ایک بنیادی جملہ اور ایک یا زیادہ تابع جملے — جب بارش رکی تو ہم گھر روانہ ہوئے۔
مفہوم کے لحاظ سے اقسام
جملہ خبریہ: جس میں کوئی خبر ہو جسے سچ یا جھوٹ کہا جا سکے — پاکستان 1947ء میں بنا۔
جملہ انشائیہ: جس میں سچ جھوٹ کا احتمال نہ ہو: امر (یہاں آؤ)، نہی (شور مت کرو)، استفہام (تم کہاں ہو؟)، تمنا (کاش میں پرندہ ہوتا!)، ندا (اے خدا!)، تعجب (کیا خوب منظر ہے!)۔
جملوں کی درستی: عام غلطیاں
غلط: میں نے کل لاہور جانا ہے۔ درست: مجھے کل لاہور جانا ہے۔
غلط: میرے کو بتاؤ۔ درست: مجھے بتاؤ۔
غلط: وہ واپس لوٹ آیا۔ درست: وہ لوٹ آیا / وہ واپس آیا۔ (حشو)
غلط: تمام رات بھر جاگا۔ درست: رات بھر جاگا / تمام رات جاگا۔
غلط: میں نے یہ کتاب پڑھا۔ درست: میں نے یہ کتاب پڑھی۔
غلط: عوام نے احتجاج کیا اور وہ ناراض تھا۔ درست: عوام نے احتجاج کیا اور وہ ناراض تھے۔