مترادف وہ الفاظ ہیں جن کے معنی ایک جیسے یا قریب قریب ہوں، اور متضاد وہ الفاظ جن کے معنی ایک دوسرے کے الٹ ہوں۔ ان سے ذخیرۂ الفاظ بڑھتا ہے اور تحریر میں تنوع آتا ہے۔
مترادف الفاظ
پانی: آب، جل، نیر
سورج: آفتاب، شمس، خورشید، مہر
چاند: ماہ، قمر، مہتاب، بدر
آسمان: فلک، گردوں، چرخ، سما
زمین: ارض، دھرتی، خاک
دنیا: جہان، عالم، گیتی
رات: شب، لیل، رین
دن: روز، یوم
دوست: یار، رفیق، ساتھی، دم ساز
دشمن: عدو، بیری، مخالف
آنکھ: چشم، نین، دیدہ
دل: قلب، جی، من
سمندر: بحر، ساگر، یم
باغ: گلشن، چمن، گلستان، بوستان
موت: اجل، مرگ، قضا
زندگی: حیات، زیست، جیون
عزت: آبرو، وقار، حرمت
غم: رنج، اندوہ، الم، ملال
خوشی: مسرت، شادمانی، فرحت
بادل: ابر، گھٹا، سحاب
متضاد الفاظ
آغاز × انجام
اول × آخر
عروج × زوال
ترقی × تنزل
امیر × غریب
آباد × ویران
ظاہر × باطن
حلال × حرام
مثبت × منفی
دوست × دشمن
خوشی × غم
روشنی × تاریکی
آسان × مشکل
جزا × سزا
فائدہ × نقصان
حاضر × غائب
قدیم × جدید
داخل × خارج
اقرار × انکار
عزت × ذلت
سچ × جھوٹ
نیکی × بدی
وفا × جفا
امن × جنگ
مختصر × طویل
فانی × باقی
کامیابی × ناکامی
اتفاق × اختلاف
آزادی × غلامی
عقل مند × بے وقوف
احتیاطیں
مترادف الفاظ کے معنی میں باریک فرق ہوتا ہے: 'ابر' اور 'گھٹا' دونوں بادل ہیں مگر 'گھٹا' گہرے بادلوں کے لیے آتا ہے۔
متضاد عموماً ایک ہی زبان کا ہونا چاہیے: 'عروج' کا متضاد 'زوال' (دونوں عربی)، 'اوپر' کا 'نیچے'۔
بعض متضاد سابقوں سے بنتے ہیں: نا (ناکام)، بے (بے وفا)، غیر (غیر حاضر)، لا (لاعلم)۔