رموزِ اوقاف وہ علامتیں ہیں جو تحریر میں ٹھہراؤ، سوال، تعجب یا وضاحت ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے درست استعمال سے عبارت کا مطلب واضح ہوتا ہے اور غلط فہمی سے بچاؤ ہوتا ہے۔
اہم علامات
ختمہ (۔): جملہ ختم ہونے پر — پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔
سکتہ (،): مختصر ٹھہراؤ، اور ایک ہی قسم کے کئی الفاظ کے درمیان — سیب، آم، کیلا اور انگور۔
وقفہ (؛): سکتے سے زیادہ مگر ختمے سے کم ٹھہراؤ، جہاں دو جملے مفہوم میں جڑے ہوں — وہ محنتی ہے؛ اسی لیے کامیاب ہے۔
رابطہ (:): کسی بات کی وضاحت یا فہرست سے پہلے، اور کسی کا قول نقل کرنے سے پہلے۔
سوالیہ (؟): سوالیہ جملے کے آخر میں — آپ کب آئیں گے؟
ندائیہ / فجائیہ (!): پکار، تعجب، خوشی یا افسوس کے لیے — واہ! کیا خوب منظر ہے!
واوین (" "): کسی کا قول یا اقتباس جوں کا توں نقل کرنے کے لیے۔
قوسین ( ): ضمنی وضاحت کے لیے — قائداعظم (محمد علی جناح) نے فرمایا۔
خط (—): جملے میں ضمنی بات یا اچانک موڑ کے لیے۔
مثال: علامات سے مطلب کیسے بدلتا ہے
'روکو، مت جانے دو' — یعنی اسے روک لو۔
'روکو مت، جانے دو' — یعنی اسے جانے دو۔
احتیاطیں
اردو میں انگریزی کا نقطہ (.) نہیں بلکہ ختمہ (۔) استعمال ہوتا ہے۔
اردو کا سکتہ (،) اور سوالیہ نشان (؟) انگریزی علامتوں سے مختلف ہیں۔
ہر جملے کے بعد مناسب علامت لگانا عبارت کو رواں بناتا ہے۔