Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
علامہ محمد اقبال (1877ء–1938ء) شاعرِ مشرق اور مفکرِ پاکستان ہیں۔ ان کی نظمیں 'طلوعِ اسلام'، 'خضرِ راہ' اور 'مسجدِ قرطبہ' ان کے فلسفۂ خودی، عشق، عمل اور ملت کی بیداری کا شاہکار اظہار ہیں۔
اقبال نے لاہور، کیمبرج اور میونخ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ شاعر، فلسفی، وکیل اور سیاست دان تھے۔ 1930ء کے خطبۂ الٰہ آباد میں انھوں نے شمال مغربی ہند میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ ان کا بنیادی پیغام خودی (اپنی ذات کی پہچان اور استحکام)، عمل، عشق اور امتِ مسلمہ کی بیداری ہے۔
یہ نظم پہلی جنگِ عظیم کے بعد ترکوں کی فتوحات کے پس منظر میں لکھی گئی، جب عالمِ اسلام میں نئی امید پیدا ہوئی۔ یہ 'بانگِ درا' کی آخری نظم ہے اور رجائیت، بیداری اور عمل کا پیغام دیتی ہے:
اس نظم میں شاعر حضرت خضرؑ سے سوال کرتا ہے اور خضر زندگی، سلطنت، سرمایہ و محنت اور دنیائے اسلام کے بارے میں جواب دیتے ہیں۔ یہ نظم پہلی جنگِ عظیم کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور مسلمانوں کی بے بسی کے پس منظر میں لکھی گئی اور انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں پڑھی گئی۔
یہ نظم اقبال نے 1933ء میں اسپین کے سفر کے دوران قرطبہ کی تاریخی مسجد دیکھ کر لکھی۔ آٹھ بندوں کی اس نظم کو اردو کی عظیم ترین نظموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں وقت کی فنا پذیری، عشق کی ابدیت، فن کی عظمت، مردِ مومن کے اوصاف، مسلم اندلس کی عظمتِ رفتہ اور مستقبل کی امید کا بیان ہے:
ان تینوں نظموں میں اقبال کا پورا فکری سفر نظر آتا ہے: زوال سے بیداری، سوال سے یقین، اور ماضی کی عظمت سے مستقبل کی امید تک۔