Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
خواجہ الطاف حسین حالی (1837ء–1914ء) شاعر، نقاد اور سوانح نگار تھے۔ ان کی 'مسدسِ مد و جزرِ اسلام' (1879ء)، جو 'مسدسِ حالی' کے نام سے مشہور ہے، مسلمانوں کے عروج و زوال کا دردناک بیان اور اصلاح کی پکار ہے۔
حالی پانی پت میں پیدا ہوئے۔ دہلی میں غالب کے شاگرد رہے اور نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کی صحبت سے فیض اٹھایا۔ لاہور میں انجمنِ پنجاب کے مشاعروں میں موضوعاتی نظمیں پڑھیں، پھر سرسید احمد خان کے رفیق بن کر علی گڑھ تحریک کے بڑے ادیب بنے۔ حکومت نے انھیں 'شمس العلما' کا خطاب دیا۔
1857ء کے بعد مسلمان سیاسی، معاشی اور تعلیمی زوال کا شکار تھے۔ سرسید کی فرمائش پر حالی نے یہ نظم لکھی تاکہ مسلمانوں کو ان کا شاندار ماضی یاد دلا کر موجودہ پستی کا احساس دلایا جائے اور انھیں تعلیم و اصلاح کی طرف مائل کیا جائے۔ سرسید نے کہا تھا کہ اگر خدا ان سے پوچھے کہ دنیا سے کیا لائے، تو وہ کہیں گے کہ حالی سے مسدس لکھوا کر لایا ہوں۔
حالی کا 'مقدمۂ شعر و شاعری' (1893ء) اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ کتاب ہے، جس میں انھوں نے سادگی، اصلیت اور جوش کو اچھی شاعری کی بنیاد قرار دیا اور مبالغے اور بے مقصد مضمون آفرینی پر تنقید کی۔
حالی نے شاعری کو قوم کی بیداری کا ذریعہ بنایا۔ مسدس نے مسلمانوں میں تعلیمی اور فکری بیداری پیدا کی اور اقبال جیسے شعرا کے لیے راہ ہموار کی۔