Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
فیض احمد فیض (1911ء–1984ء) بیسویں صدی کے عظیم ترین اردو شعرا میں سے ہیں۔ انھوں نے کلاسیکی غزل کی علامتوں (گل، صبا، قفس، زنداں، یار) کو نئے سیاسی اور انقلابی معنی دیے۔ 'دستِ صبا' (1952ء) ان کا دوسرا مجموعہ ہے، جس کی کئی تخلیقات قید کے دوران لکھی گئیں۔
فیض نے انگریزی اور عربی میں ایم اے کیا، کالج میں پڑھایا، دوسری جنگِ عظیم میں فوج میں خدمات انجام دیں اور پھر 'پاکستان ٹائمز' کے مدیر رہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور کئی سال جیل میں رہے۔ 'دستِ صبا' اور 'زنداں نامہ' اسی دور کی یادگار ہیں۔
یہ مجموعہ 1952ء میں شائع ہوا۔ اس کی غزلوں اور نظموں میں قید و بند کا تجربہ، آزادی کی تڑپ، محبوب کی یاد، وطن کا دکھ اور امید کی روشنی ہے۔ اس میں ان کی مشہور نظم 'صبحِ آزادی' بھی شامل ہے جو آزادی کے بعد کی مایوسی کا اظہار ہے:
فیض نے ثابت کیا کہ غزل جیسی کلاسیکی صنف بھی جدید سیاسی و سماجی شعور کا اظہار کر سکتی ہے۔ 'دستِ صبا' میں قید کا اندھیرا بھی ہے اور صبح کی امید بھی۔