Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
مجید امجد (1914ء–1974ء) جدید اردو نظم کے منفرد اور گہرے شاعر ہیں۔ 'شبِ رفتہ' (1958ء) ان کی زندگی میں شائع ہونے والا واحد مجموعہ ہے، جس میں فطرت، وقت، عام انسان اور زندگی کی ناپائیداری کا گہرا شعور ملتا ہے۔
مجید امجد جھنگ میں پیدا ہوئے، کچھ عرصہ صحافت سے وابستہ رہے اور پھر محکمۂ خوراک (سول سپلائیز) میں ملازمت کی، جس کا بڑا حصہ ساہیوال (منٹگمری) میں گزرا۔ وہ گوشہ نشین، خاموش طبع اور ادبی شہرت کی دوڑ سے دور رہے۔ ان کی وفات ساہیوال میں تنہائی اور کسمپرسی کے عالم میں ہوئی۔ بعد میں ان کا کلیات شائع ہوا اور ناقدین نے انھیں جدید اردو نظم کے سب سے بڑے شعرا میں شمار کیا۔
یہ مجموعہ 1958ء میں شائع ہوا۔ اس کی نظموں میں روزمرہ زندگی کے عام مناظر اور کردار (پنواڑی، کھلاڑی، درخت، سڑک، شہر) گہرے فلسفیانہ معنی حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی مشہور نظموں میں 'آٹوگراف'، 'پنواڑی' اور 'توسیعِ شہر' شامل ہیں۔
ان کی زندگی میں انھیں وہ شہرت نہ ملی جس کے وہ حق دار تھے، کیونکہ وہ ادبی گروہ بندیوں سے دور رہے۔ وفات کے بعد ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے مرتب کردہ کلیات اور ناقدین کی توجہ نے انھیں جدید اردو نظم کا بڑا شاعر تسلیم کرایا۔
مجید امجد نے عام زندگی کے لمحوں میں ابدی سچائیاں دکھائیں۔ 'شبِ رفتہ' وقت، انسان اور فطرت کے رشتے پر ایک گہرا مراقبہ ہے۔