Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
نذر محمد راشد (1910ء–1975ء) اردو میں آزاد نظم کے بانیوں میں سے ہیں۔ 'ایران میں اجنبی' (1955ء) ان کا دوسرا مجموعہ ہے، جس میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران ایران میں قیام کے تجربات کے ذریعے مشرق کی غلامی، استعمار اور ایشیائی انسان کی بے بسی کو موضوع بنایا گیا ہے۔
راشد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی، آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے، دوسری جنگِ عظیم کے دوران فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ساتھ ایران سمیت مختلف ممالک میں رہے، اور بعد میں اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دیں۔ ان کا انتقال لندن میں ہوا۔
دوسری جنگِ عظیم میں ایران پر اتحادی افواج کا قبضہ تھا۔ راشد وہاں ایک ہندوستانی کی حیثیت سے، یعنی خود ایک غلام ملک کے فرد کی حیثیت سے، 'اجنبی' تھے۔ اس مجموعے کی نظموں میں:
میراجی کے ساتھ راشد نے آزاد نظم کو اردو میں معتبر بنایا۔ 'ایران میں اجنبی' میں ذاتی اجنبیت اور اجتماعی غلامی کا دکھ ایک ساتھ بولتا ہے۔