Practice modes
Languages & Literature
Pakistan
World & History
ناصر کاظمی (1925ء–1972ء) جدید اردو غزل کے اہم ترین شعرا میں سے ہیں۔ انھوں نے میر کے سادہ اور دردمند لہجے کو نئی زندگی دی اور ہجرت، یاد، تنہائی اور اداسی کو نئے انداز سے بیان کیا۔ 'برگِ نے' (1954ء) ان کا پہلا مجموعہ ہے۔
ناصر کاظمی انبالہ میں پیدا ہوئے اور 1947ء میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔ ہجرت کا دکھ، اجڑی بستیاں، بچھڑے دوست اور نئے شہر کی تنہائی ان کی شاعری کا بنیادی تجربہ بن گئے۔ وہ لاہور کی راتوں، چائے خانوں اور ادبی محفلوں سے وابستہ رہے اور ریڈیو اور ادبی رسائل سے تعلق رکھا۔
'برگِ نے' 1954ء میں شائع ہوا اور اسی نے ناصر کو جدید غزل کا اہم شاعر بنا دیا۔ اس مجموعے کی غزلوں میں ہجرت کے بعد کی اداسی، یادوں کی بازگشت، رات، چاند، پرندوں اور اجڑے شہروں کی تصویریں ہیں۔ عنوان میں 'نے' بانسری کو کہتے ہیں، جو نغمگی اور ہجر کے دکھ کی روایتی علامت ہے۔
ناصر کاظمی نے غزل کو جدید انسان، خصوصاً ہجرت زدہ نسل کے دکھ کا ترجمان بنایا۔ 'برگِ نے' کی سادگی اور نغمگی نے بعد کے بہت سے شعرا کو متاثر کیا۔